Tuesday, August 16, 2022

مغرور آدمی اور شہد بیچنے والی بوڑھی عورت

ایک بازار سے ایک مغرور بندہ گذر رہا تھا کہ اس کی نظر سر پر ایک ڈول اٹھائے عورت پر پڑی، اس نے اسے آواز دیکر روکا اور نخوت سے پوچھا: اے مائی، کیا بیچ رہی ہو؟
عورت نے کہا: جی میں گھی بیچ رہی ہوں۔ 
اس شخص نے کہا: اچھا دکھاؤ تو، کیسا ہے؟
گھی کا وزنی ڈول سر سے اتارتے ہوئے کچھ گھی اس آدمی کی قمیض پر گرا تو یہ بہت بگڑ گیا اور دھاڑتے ہوئے بولا: نظر نہیں آتا کیا، میری قیمتی قمیض خراب کر دی ہے تو نے؟ میں جب تک تجھ سے اس قمیض کے پیسے نا لے لوں، تجھے تو یہاں سے ہلنے بھی نہیں دونگا۔
عورت نے بیچارگی سے کہا؛ میں مسکین عورت ہوں، اور میں نے آپ کی قمیض پر گھی جان بوجھ کر نہیں گرایا، مجھ پر رحم کرو اور مجھے جانے دو۔
اس آدمی نے کہا؛ جب تک تجھ سے دام نا لے لوں میں تو تجھے یہاں سے ہلنے بھی نہیں دونگا۔
عورت نے پوچھا: کتنی قیمت ہے آپ کی قمیض کی؟
اس شخص نے کہا: ایک ہزار درہم۔ 
عورت نے روہانسا ہوتے ہوئے کہا: میں فقیر عورت ہوں، میرے پاس سے ایک ہزار درہم کہاں سے آئیں گے؟
اس شخص نے کہا: مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔ 
عورت نے کہا: مجھ پر رحم کرو اور مجھے یوں رسوا نا کرو۔ ابھی یہ آدمی عورت پر اپنی دھونس اور دھمکیاں چلا ہی رہا تھا کہ وہاں سے کہ ایک نوجوان کا گزر ہوا۔ نوجوان نے اس سہمی ہوئی عورت سے ماجرا پوچھا تو عورت نے سارا معاملہ کہہ سنایا۔
نوجوان نے اس آدمی سے کہا؛ جناب، میں دیتا ہوں آپ کو آپ کی قمیض کی قیمت۔ اور جیب سے ایک ہزار درہم نکال کر اس مغرور انسان کو دیدیئے۔
یہ آدمی ہزار درہم جیب میں ڈال کر چلنے لگا تو نوجوان نے کہا: جاتا کدھر ہے؟
آدمی نے پوچھا: تو تجھے کیا چاہیئے مجھ سے؟
نوجوان نے کہا: تو نے اپنی قمیض کے پیسے لے لیئے ہیں ناں؟
آدمی نے کہا: بالکل، میں نے ایک ہزار درہم لے لیئے ہیں۔
نوجون نے کہا: تو پھر قمیض کدھر ہے؟
آدمی نے کہا: وہ کس لیئے؟
نوجوان نے کہا: ہم نے تجھے تیری قمیض کے پیسے دیدیئے ہیں، اب اپنی قمیض ہمیں دے اور جا۔
آدمی نے گربڑاتے ہوئے کہا: تو کیا میں ننگا جاؤں؟
نوجوان نے کہا: ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ 
آدمی نے کہا: اور اگر میں یہ قمیض نا دوں تو؟
نوجوان نے کہا: تو پھر ہمیں اس کی قیمت دیدے۔ 
اس آدمی نے پوچھا: ایک ہزار درہم؟
نوجوان نے کہا: نہیں، قیمت وہ جو ہم مانگیں گے۔ 
اس آدمی نے پوچھا: تو کیا قیمت مانگتے ہو؟
نوجوان نے کہا: دو ہزار درہم۔ 
آدمی نے کہا؛ تو نے تو مجھے ایک ہزار درہم دیئے تھے۔ 
نوجوان نے کہا: تیرا اس سے کوئی مطلب نہیں۔ 
آدمی نے کہا: یہ بہت زیادہ قیمت ہے۔ 
نوجوان نے کہا؛ پھر ٹھیک ہے، ہماری قمیض اتار دے۔ 
اس آدمی نے کچھ روہانسا ہوتے ہوئے کہا: تو مجھے رسوا کرنا چاہتا ہے؟
نوجوان نے کہا: اور جب تو اس مسکین عورت کو رسوا کر رہا تھا تو!!
آدمی نے کہا: یہ ظلم اور زیادتی ہے۔ 
نوجوان نے حیرت سے کہا: کمال ہے کہ یہ تجھے ظلم لگ رہا ہے۔ 
اس آدمی نے مزید شرمندگی سے بچنے کیلئے، جیب سے دو ہزار نکال کر نوجوان کو دیدیئے۔ 
اور نوجوان نے مجمعے میں اعلان کیا کہ دو ہزار اس عورت کیلئے میری طرف سے ہدیہ ہیں۔
ہمارے ہاں بھی اکثریت کا حا ل ایسا ہی ہے۔ ہمیں دوسروں کی تکلیف اور توہین سے کوئی مطلب نہیں ہوتا لیکن جب بات خود پر آتی ہے تو ظلم محسوس ہوتا ہے۔ اگر معاشرتی طور پر ہم دوسروں کی تکلیف کو اپنا سمجھنا شروع کر دیں تو دنیا کی بہترین قوموں میں ہمارا شمار ہو۔ اگر وقت ملے تو سوچیے گا

دسترخوان کا بچوں کی تربیت میں اہم کردار


       *┄┅•••••⊰✿🍀✿⊱••••۔

 *دسترخوان کا بچوں کی تربیت میں اہم کردار* 

کھانا دم پر ہو اور بھوک سے دم نکل رہا ہو تو اکثر گھروں میں کیا سننے کو ملتا ہے؟ ارے بھئی جلدی کھانا نکالو، آج کیا بنایا ہے؟ خوشبو تو بڑی اچھی آ رہی ہے، ارے یہ کیا بنادیا بولا بھی تھا کہ۔۔۔۔ لیکن اب ایسی ساری باتوں کو خدا حافظ کہہ دیں پھر یہ کریں۔

کھانے تیار ہونے کے بالکل نزدیک ہو تو بچے/بچوں سے کہیں کہ دسترخوان لائیں اور ایک کنارے سے دسترخوان خود پکڑیں باقی کنارے بچوں سے پکڑنے کا کہہ کر سیدھے انداز میں دسترخوان بچھائیں، سلوٹیں کیسے دور کی جاتی ہیں خود کر کے بچوں کو دکھائیں۔

دسترخوان پر کھانے کے لیئے استعمال ہونے والے برتن دسترخوان پر لا کر رکھنے کے لئے بچوں کو اپنے ساتھ کچن میں لے جائیں، انہیں دکھائیں کہ برتن کس طرح پکڑنا ہے، کس ترتیب سے لا کر رکھنے ہیں۔

ڈائننگ ٹیبل ہو یا فرشی دسترخوان، کیسے بیٹھنا ہے انہیں اسی طرح بیٹھ کر بتائیں، کھانے کی دعا ایک دو بار خود بلند آواز میں پڑھیں پھر کسی بچے کو نامزد کردیں کہ آئیندہ سے وہ دعا پڑھوائے اسی طرح برتن دسترخوان پر لا کر رکھنے کی باری طے کی جاسکتی ہے۔

کھانہ سامنے آ جائے تو بچوں کو ایثار، پہلے دوسرے اور ساتھ ہی آداب میزبانی سکھانے کے لئے جھٹ سے کھانا اپنی پلیٹ میں نکالنے کی بجائے اپنے ہاتھ سے بچے کی پلیٹ میں ڈالیں، آخر میں اپنی پلیٹ میں نکالیں۔

بچے کو ایثار سکھانا چاہتے ہیں تو بوٹی یا کوئی پسندیدہ چیز  اپنی پلیٹ میں سے نکال کر بچے کی پلیٹ میں رکھ دیں، کھانا کم ہو اور لوگ زیادہ، ایسے میں کبھی اپنے حصے کے نوالے کم کر کے، کبھی زبانی ضرورت اور خواہش کی قربانی کے بارے میں ہلکے پھلکے انداز میں بتائیں۔

نوالہ کتنا بڑا ہو، کیسے چبانا ہے؟ اس کا باقاعدہ ڈیمو دکھائیں، دسترخوان پر یوں ہی الل ٹپ کسی بھی موضوع پر بات کے بجائے کوئی بات سمجھانے بتانے کے لیے پہلے سے ٹاپک سوچ کر ذہن بنالیں اور صرف اپنی کہے جانے کے بجائے بچوں کی رائے سننے اور سمجھنے کی کوشش ہو تو اچھا ہے۔

بچے کو برداشت سکھانا چاہ رہے ہیں تو کھانا پسند کا نہ ہو یا ذائقہ مطلب کا نہ ہو منہ بنائے بغیر کھانے کا ڈیمو دیں ساتھ ہی زبانی بھی بتائیں کہ کھانے پسند نہ آئے تو تنقید اور تبصرے کے بجائے خاموشی اچھی ہے۔

کھانا مکمل ہوگیا، اب برتن سمیٹنے، ہر چیز واپس اپنی جگہ پہ رکھنے کا کام خود شروع کریں ساتھ ساتھ بچوں سے بھی کروائیں، اب چلتے چلتے یہ بات گرہ سے باندھ لیں دسترخوان لرننگ پراسس میں صرف چند دن کی ایکسرسائز سے یا بے دلی سے محض رسم پوری کرنے والے رویہ کچھ نہیں کچھ بھی نہیں ہوگا اس کے لیے مناسب عرصہ لگ کر، جم کر دلچسپی سے کام کرنا ہوگا.....

التماسِ دعا:
اَلَّهُمَّ صَلِ عَلَى ُمُحَمَّدٍ ُّوعَلَى اَلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ ابْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْد مَجِيِد۔ 
اَلَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وعَلَى اَلِ مُحَمّدٍ كَمَابَارَكْتَ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ وَعَلَى اَلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْد مَّجِيد..... کے

Monday, August 15, 2022

خلائی چٹان آور قیامت

خلائی چٹان اور قیامت 
اپافس (Apophis) ایک خلائی چٹان کا نام ہے جو اس وقت میڈیا میں ایک نمایاں خبر بن گئی جب دسمبر 2004 کے مہینے میں ماہرین فلکیات نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ 13 اپریل 2029 کو اس چٹان کے زمین سے ٹکرانے کا امکان ہے۔ اس خبر نے ساری مہذب دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ ہزار فٹ چوڑی ایسی کسی چٹان کے زمین سے ٹکرانے کا مطلب سیکڑوں ایٹم بموں کے برابر تباہی۔ کروڑوں لوگوں کا مرنا اور پوری دنیا کا نظام معطل ہونا تھا۔
 
تاہم بعد میں زیادہ درست مشاہدات نے اس امکان کو رد کر دیا۔ ناسا کی رپورٹس کے مطابق یہ چٹان 13 اپریل 2029 کے دن زمین کے بہت قریب یعنی بیس ہزار میل کے فاصلے سے گزرے گی، لیکن اس کا زمین سے ٹکرانے کا امکان نہیں ہے۔ لیکن یہ فاصلہ اتنا کم ہے کہ اُس دن لوگ اسے اپنی آنکھوں سے زمین کے اوپر سے گزرتے ہوئے دیکھیں گے۔ انٹرنیٹ پر موجود وڈیو پر اگر اس منظر کو دیکھا جائے تو لگے گا کہ بیس ہزار میل کے جس فاصلے سے یہ چٹان زمین سے گزرے گی وہ خلائی معیارات پر بال برابر فاصلہ بھی نہیں ہے۔ گویا انسانیت کو ایک عظیم تباہی سے بال برابر فاصلے سے بچا لیا گیا۔
 
آسمانی صحیفوں میں قیامت سے متعلق جو بیانات آئے ہیں، ان سے یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ قیامت کسی آسمانی آفت سے جنم لے گی،(مکاشفہ9:20)، (الذاریات22:51)۔ موجود سائنسی معلومات کے مطابق اس کی ایک ممکنہ شکل ایسی ہی کسی خلائی چٹان کا زمین سے ٹکرانا ہے جس سے ہونے والی تباہی زمین پر موجود تمام مخلوقات کو ختم کر دے گی۔ ڈائناسور اور زمین کی ستر فی فیصد انواع کو جس چٹان نے ختم کیا تھا وہ محض دس سے پندرہ کلومیٹر لمبی تھی۔ نظام شمسی میں اس سے کہیں زیادہ بڑی چٹانیں گھوم رہی ہیں اور جس روز اللہ کا اذن ہوگا، ان کا رخ زمین کی طرف ہوجائے گا۔
 
بہت سے سائنسدانوں کے نزدیک ایسی کسی چٹان کا زمین سے ٹکرانا ایک یقینی امر ہے اور یہ اگر کا نہیں کب کا معاملہ ہے۔ یعنی اس بات کا وقت تو آگے پیچھے ہوسکتا ہے، لیکن ایسا ہونا لازمی ہے۔ مریخ اور دیگر مقامات پر خلائی مشن بھیجے جانے کی ایک وجہ زمین کا متبادل تلاش کرنا بھی ہے۔ انسانی دماغ جو انسانی شخصیت کی اصل ہے، اسے کسی دھاتی  قالب میں منتقل کرنے کے جو مختلف پروجیکٹ دنیا میں جاری ہیں، ان  کے پیچھے جہاں موت کو شکست دینے کی خواہش ہے وہیں اس کا مقصد انسان کے لیے ایسا قالب تیار کرنا ہے جو دیگر سیاروں کے ہر طرح کے سخت ماحول میں رہ سکے۔
 
دورِ جدید میں اہل مغرب اور دیگر جدید اقوام اگر اس رخ پر سوچ رہی ہیں تو اس کے پیچھے انکار خدا کی وہ سوچ ہے جس کے مطابق یہ کائنات بخت و اتفاق کا ایک کارخانہ ہے جہاں انسان خوش قسمتی سے آگیا ہے۔ یہ مادی دنیا آخری حقیقت اور یہ زندگی واحد سچائی ہے۔
 
دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ اس دنیا کو ختم کرنے والے ہیں۔ آسمانی صحائف میں قیامت سے پہلے تین بڑی پیش گوئیاں کی گئی تھیں۔ ایک حضرت عیسیٰ کے آنے، دوسرے حضور کی آمد کی اور تیسری یاموج ماجوج کے دنیا پر غالب ہوجانے کی۔ پہلی پیش گوئی انجیل کے نزول کے ساتھ پوری ہوگئی اور انجیل میں صرف دو پیش گوئیاں رہ گئیں۔ یعنی حضور کی آمد اور یاجوج ماجوج کا غلبہ۔ قرآن کے نزول کے ساتھ دوسری پیش گوئی بھی پوری ہوگئی اور قرآن میں صرف یاجوج ماج کی پیش گوئی رہ گئی۔ موجودہ دور میں مغربی اقوام کے غلبے کے ساتھ یہ تیسری پیش گوئی بھی پوری ہوچکی ہے۔ اب صرف قیامت کا آنا رہ گیا ہے جو کسی وقت بھی آسکتی ہے۔
 
خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو قیامت کے آنے سے قبل خود کو قرآن کا مطلوب انسان بنا لیں۔ بدنصیب ہیں وہ لوگ جو قیامت کی اتنی صریح نشانیاں دیکھ لینے کے باوجود غفلت میں رہیں۔/

Sunday, August 14, 2022

ڈپریشن کی ایک واحد وجہ

t.me/sunnatwaljamat

*🍁•••══༻◉﷽◉༺══•••🍁*

*”‏ڈپریشن کی ایک بنیادی وجہ اپنی محرومیوں کے بارے میں زیادہ سوچنا ہے۔میسر نعمتوں کو شمار کریں ذہن متوازن اور دل سکون میں رہے گا!“*


*اگر ایک بار ہمیـــــــــں ... پرہیزگاری کی زندگی کی قیمت ... معلوم ہو جائے ... تو ہم کبھــــــــی ... اللہ عزوجل کی حد کو ... پار نہیــــں کریں گے .......!!!*



*میری آنکھیں صرف اللہ کو دیکھنا چاہتی ہیں ... میرے کان صرف اللہ کو سننا چاہتے ہیں ... میری روح کو صرف اللہ کی ضرورت ہے ... میرا دل کہتا ہے میرے لیے اللہ ہی کافی ہے ... مجھ پر صرف اللہ کا حق ہے ........!!!*



*کبھی کبھی ... دین و دنیا کے درمیان توازن ... برقرار رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے .........!!!*



*‏کھانا ہضم کرنے کے لئے ... ہم سبـــــــــ مختلف تراکیب کرتے ہیــــــــں ... اور سبـــــــــــــــ کو معلومات بھی ہیـــــــــں ... الحمدللہ ثمہ الحمداللہ ... مگرررررر  ہم میــــں سے ... کچھ لوگوں کو ایک شدید والی بیماری ہوتی ہے ... یہ کہ ان سے دوسروں کی باتیں ہضم نہیـــــــــں ہوتیــــں ........!!!*



*‏دوسروں کے متعلق فیصلے نہیـــــــــں ... فکر کریں ... وقتــــــــــــــــ مختصر ہے ... اور حســـــــــابـــــــــ سختـــــــــ ہے ... آپ چلے جائیں گے ... رویے رہ جائیں گے ........!!!*


*‏بعض لوگ ... ریاضی کے سوال کی مانند ہوتے ہیــــــــں ... انکا حل طویل ہوتا ہے ... لیکن نتیجہ (0) صفر ........!!!*


*ہم کِســـــــــں قدر ترسے ہوئے دور کی پیداوار ہیــــــــں ... ہر شخص قربت  چاہتا ہے ... اور ہر انسان قربت سے محروم ہے ... ہر دل محبتـــــــــــــــــ کو تڑپتا ہے ... اور کئی دل محبتـــــــــــــــــ سے خالی ہیــــــــں ….....!!!*


*مدد کرنا ایک بہت مہنگا تحفہ ہے،مگر ہر کسی سےاس کی امید نہ رکھیں کیونکہ بہت کم لوگ دل کے امیر ہوتے ہیں....*

*کوشش کریں کہ لوگوں کی روح کو زخمی نا کریں کیونکہ جسم کے زخم کی ہزاروں دوائیاں، ہزاروں طبیب مل جاتے ہیں مگر  روح کے طبیب بازار سے نہیں ملتے*
*حقوق العباد کا خاص خیال رکھیں..


*اگر آپ کے پاس سوال کے جواب میں دلیل نہیں ہے تو کوئی بات نہیں مگر گالم گلوچ جاہل ہونے کی نشانی ہے فیصلہ آپ نے کرنا ہے*



*‏یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہمیشہ کیلیے لوگ میری باتوں کو توجہ میری حیثیت دیکھ کر دیتے  رہے گے.😥*

*┄┅════❁🌹❁════┅┄*

Monday, August 8, 2022

ایک ایسا واقعہ جو اقبال ؒ نے اپنی زندگی میں بتانے سے منع کیا*

*خواجہ معین الدین چشتی ؒ ، داتا گنج بخش علی ہجویریؒ اور علامہ اقبال رحمہ اللہ تعالیٰ*

*ایک ایسا واقعہ جو اقبال ؒ نے اپنی زندگی میں بتانے سے منع کیا*

‎لاہور (خصوصی رپورٹ) علامہ اقبال کے خادم میاں علی بخش کو علامہ کے ہاں ایسا نا قابل فراموش واقعہ پیش آیا جسے وہ عمر بھر یاد کرتے رہے اور مجاہد ملت حضرت مولانا محمد عبد الستار نیازی اس واقعے کے اصل راوی تھے۔گوجرانوالہ کے ایک بزرگ علی بخش کے پاس آئے اور کہا کہ انھیں علامہ اقبال کی زندگی کے کچھ واقعات بتائیں۔ علی بخش نے جوب دیا’’ میں ساری باتیں کہہ چکا ہوں ، اب کو ئی بات باقی نہیں رہی۔جب اس بزرگ نے اصرار کیا تو علی بخش نے کہا ’’ہاں‘‘ ایک واقعہ ایسا ہے جو پیش آیا مگر علامہ اقبال نے اسکی تفصیلات مجھے نہیں بتائیں ایک روز وہ یعنی علامہ صاحب میری فداکارانہ خدمت سے مسرور تھے۔ اور مجھے کہا ، علی بخش بتاؤ تمہیں کیا دوں کہ تم خوش ہو جاؤ ؟ میں نے جواب دیا کہ جو معاملہ آپ کو ایک دن پیش آیا تھا اور میں نے اسکے بارے میں نے آپ سے سوال کیا ، تو آپ نے بتانے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ بتائیں۔ علامہ نے فرمایا اب بتانا چاہتا ہوں مگر اس شرط کے ساتھ کہ میرے( حین حیات )عمر بھرکسی کو نہ بتانا ، البتہ میری زندگی کے بعد بتا سکتے ہو۔ وہ واقعہ یوں ہے۔ایک روز نصف شب علامہ اقبال بستر پر لیٹے ہوئے تھے بے حد بے چین اور مضطرب تھے۔ دائیں بائیں کروٹ بدلتے تھے۔ یکایک آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور کوٹھی (میکلوڈ روڈ ) کے دروازے کی طرف گئے۔ میں بھی پیچھے چلا گیا۔ اتنے میں ایک پاکیزہ بزرگ اندر داخل ہوئے۔ ان کا لباس خوبصورت اور سفید تھا۔ انھیں آپ اندر لے آئے اور پلنگ پر بٹھا دیا اور خود نیچے بیٹھ کر بزرگ کے پاؤں دبانے لگے۔ اس دوران علامہ صاحب نے ان سے پوچھا کہ آپ کے لئے کیا لاؤں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ دہی کی لسی بنا کر پلا دو۔ اس پر علامہ صاحب نے مجھ سے کہا کہ جگ لیکر جاؤ اور لسی بنوا کر لے آؤ۔میں حیران تھا کہ اس وقت لسی کہاں سے حاصل کروں۔ بھاٹی گیٹ جا کر کسی مسلمان کی دکان سے بنوا کر لاؤں یا اسٹیشن جاؤں۔ جونہی میں کوٹھی سے باہر نکلا تو کوٹھی کے سامنے ایک بازار دکھائی دیا۔جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ بازار میں مجھے ایک لسی والے کی دکان نظر آئی۔ میں اس کے پاس گیا اور اسے کہا مجھے جگ میں لسی بنا کر دے دو۔ اس نے جگ مجھ سے لیکر اچھی طرح دھویا۔ پھر ایک دہی کی صحنک (کونڈا) اٹھا کر اپنے گڈوے میں لسی بنائی۔اور جگ میں بھر دی ، میں نے پیسے پوچھے تو سفید ریش بزرگ نے جواب دیا کہ علامہ صاحب سے ہمارا حساب چلتا رہتا ہے۔تم لے جاؤ اور ان کو پیش کر دو۔ میں جگ لیکر آیا اور حضرت علامہ کو پیش کر دیا۔حضرت نے ایک گلاس بھر کر ان سفید ریش روحانی بزرگ کو پیش کیا۔ انہوں نے پی لیا۔ پھر دوسرا گلاس بھر کر دیا وہ بھی انہوں نے پی لیا جب تیسرا گلاس بھرا تو بزرگ نے کہا خود پی۔ کافی دیر تک علامہ اقبال ان بزرگ کے پاؤں دباتے رہے اور باتیں کرتے رہے۔ کچھ دیر بعد وہ بزرگ اٹھ کھڑے ہوئے اور کوٹھی سے باہر نکےر کے لئے چل دئیے۔ علامہ صاحب بھی انکے ساتھ نکلے۔میں بھی انکے پیچھے چلا۔ وہ بزرگ کوٹھی سے باہر نکلے تو اچانک غائب ہو گئے میں حیران تھا کہ یہ کون تھے ؟ اب کہاں چلے گئے اور پھر وہ سامنے بازار بھی نہ تھا ، جس کے ایک دکاندار نے مجھے لسی بنا کر دی تھی۔ اس دن میں نے پوچھا حضرت یہ بزرگ کون تھے اور دکان پر بیٹھے ریش دار بزرگ کون تھے ؟ علامہ اقبال نے فرمایا کہ میں انکے نام بتاتا ہوں لیکن میری زندگی میں کسی کو نہ بتانا جو بزرگ کوٹھی میں تشریف لائے اور لسی پی وہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ تھے اور جس بزرگ نے لسی بنا کر دی وہ داتا گنج  بخش علی ہجویری تھے

مشہور سابق برطانوی سنگر Cat Stevens کا 4 شادی پر مہ توڑ جواب

نمرود کی طرح لبرل صحافی لاجواب
     
     مشہور سابق برطانوی سنگر Cat Stevens (یوسف إسلام) ترکی کے دورے پہ آئے اہلیہ کے ہمراہ۔ ایک لبرل صحافی نے چبھتا ہوا سوال پوچھا کہ آپ بحیثیتِ ایک یورپی سنگر اور روشن خیال شخصیت کے کیا یہ پسند کریں گے کہ قبول اسلام کے بعد چار عورتوں سے بیک وقت نکاح کریں؟ آپ جیسی شخصیت کی عقل اسے کیسے تسلیم کرے گی؟ کیا یہ کوئی لوجیکل بات ہے؟ یہ خواتین کے ساتھ ظلم نہیں؟
یوسف صاحب حسب عادت مسکرائے اور کچھ توقف کے بعد فرمایا کہ آپ کا یہ سوال میرے قبول اسلام سے پہلی والی حالت کے متعلق ہونا چاہئے نہ کہ موجودہ حالت پہ۔ 
کیوں؟
اس لئے کہ اسلام سے پہلے میرے جن عورتوں سے تعلقات تھے، ان کی درست تعداد بھی مجھے یاد نہیں اور ان میں سے کتنی عورتوں سے میری کتنی اولاد ہوئی، یہ بھی مجھے نہیں معلوم۔ وہ بچے کہاں اور کس حال میں ہیں، میں کچھ نہیں جانتا۔ تو یہ سوال پہلی والی حالت پہ وارد ہوتا ہے نہ کہ اب۔ اب تو میں الحمدللہ مسلمان ہوں۔ میری ایک ہی بیوی ہے۔ اس کے ساتھ میں خوش ہوں۔ اس کے ہوتے دوسری شادی کا کوئی خیال بھی نہیں۔ اسلام نے کب مجھے پابند کیا ہے کہ مجھے دوسری شادی کرنی ہے۔ تیسری اور چوتھی کا سوال ہی نہیں۔ اگر بالفرض میں شادیاں کر بھی لوں تو اسلام نے بیوی اور اولاد کی تمام تر ذمہ داریاں نبھانے کا بھی مجھے پابند کیا ہے۔ اس پہ تو میرے دوست! تجھے اعتراض اور پریشانی ہے۔ لیکن میرے ان بچوں کی کوئی فکر نہیں جنہیں میں آج جانتا بھی نہیں۔ پتہ نہیں کہاں پل رہے ہیں یا زندگی سے ہی محروم ہوچکے ہیں۔ کیا چار بیویاں رکھ کر ان کی کفالت اور اولاد کی تربیت کرنا بہتر ہے یا سینکڑوں عورتوں کو استعمال کرکے ان سے ہونے والی اولاد سے لا تعلق ہونا؟ اور انہیں اندھیری راہوں کے سپرد کرنا؟ ان دو میں سے بتایئے انسانیت دشمنی کس میں ہے اور دوستی کس میں؟ کونسا خواتین کے ساتھ ظلم ہے اور کس میں انصاف؟
یہ سن کر نمرود کی طرح لبرل صحافی لاجواب ہوگیا۔
(ضیاء چترالی)
۔
۔
۔
    

Sunday, August 7, 2022

نیک گمان

1) ایک محترمہ ٹیکسی ڈرائیور کے برابر والی سیٹ پر بیٹھ کر سفر کررھی ھے حالانکہ پچھلی سیٹیں خالی ھیں!

2) ایک شخص مسجد کے آگے سے گزررھاھے ، جب کہ لوگ نماز پڑھ رھے ھیں۔ اور وہ نماز ادا کیے بغیر آگے گزر جاتاھے!

3) آپ ایک آدمی کے پاس سے گزرتے ھیں اور اسے سلام کرتے ھیں مگر وہ جواب نہیں دیتا!

1) محترمہ، ٹیکسی چلانے والے کی اھلیہ ھیں۔

2) اس آدمی نے دوسری مسجد میں نماز پڑھ لی ھے۔

3) اس شخص نے آپ کے سلام کی آواز سنی ھی نہیں ھے۔

ایک بزرگ فرماتے ھیں کہ اگر میں کسی بھائی کواس حال میں دیکھوں کہ اس کی داڑھی سے شراب کے قطرے ٹپک رھے ھیں تو میں یہی حسن ظن رکھوں گا کہ کسی اور نے اس کی داڑھی کے اوپر شراب انڈیلی ھے۔۔۔

اور اگر کسی بھائی کو پہاڑ کی چوٹی پر یہ پکارتے ھوئے سنوں: "انا ربکم الاعلی"(میں تمھارا عظیم ترین رب ھوں)... تو میں یہی گمان کروں گا کہ وہ قرآن کی تلاوت کررھاھے۔

ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ھیں کہ انسان کے لیے خود اپنے اعمال کی نیتوں کو جاننا مشکل ھے اوروہ دسروں کی نیتوں کے بارے میں فیصلے صادر کرتا پھرتا ہے

اکثر دفعہ آپ معاملے کے صرف ایک رخ کو دیکھتے ھیں لہذا دوسرے رخ کو آپ مثبت طرح سے لیں. تاکہ لوگوں کے ساتھ زیادتی اور ان کی حق تلفی نہ ھو۔

دوسروں سے متعلق ھمیشہ نیک گمان رکھیں.